پیر 9 فروری 2026 - 11:06
انقلاب اسلامی نے ایران کو طاغوت سے نجات دلا کر آزادی اور عزت سے عطا کیا

حوزہ/ قائم مقام مدیرِ حوزہ علمیہ قم حجت الاسلام والمسلمین حمید ملکی نے کہا ہے کہ انقلاب اسلامی نے ایران کو طاغوتی دور کی ثقافتی اور گھٹن سے نجات دلا کر عزت، معنویت اور حقیقی آزادی کی راہ پر گامزن کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائم مقام مدیرِ حوزہ علمیہ قم حجت الاسلام والمسلمین حمید ملکی نے کہا ہے کہ انقلاب اسلامی نے ایران کو طاغوتی دور کی ثقافتی اور گھٹن سے نجات دلا کر عزت، معنویت اور حقیقی آزادی کی راہ پر گامزن کیا۔

انہوں نے مدرسۂ علمیہ امام موسیٰ کاظمؑ قم میں منعقدہ ایک اجتماع سے خطاب کیا جو انقلاب اسلامی کی سالگرہ اور ایامِ عشرہ فجر کی مناسبت سے منعقد کیا گیا تھا۔

انہوں نے ایامِ عشرہ فجر کو تاریخِ معاصر کا اہم ترین موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ بابرکت ایام ہیں جن کا آغاز 12 بہمن کو امام خمینیؒ کی وطن واپسی سے ہوا اور دس دن کی جدوجہد کے بعد انقلاب اسلامی کی کامیابی پر منتج ہوا۔

حجت الاسلام ملکی نے طاغوتی دور کی سماجی اور ثقافتی صورتحال کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس زمانے میں شہروں میں شراب خانوں کی تعداد مساجد سے زیادہ تھی، جبکہ دینی کتابیں رکھنا بھی خطرے سے خالی نہ تھا۔ معمولی مخالفت پر بھی سخت سکیورٹی کارروائی کی جاتی تھی اور عوام خوف و ہراس میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔

انہوں نے کہا کہ انقلاب کے بعد ملک کا ثقافتی ماحول یکسر تبدیل ہو گیا اور آج ریڈیو، ٹیلی ویژن اور دیگر ذرائع ابلاغ قرآن و اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے مزین ہیں، جو ایک عظیم نعمت ہے، خصوصاً نئی نسل کو اس تبدیلی کا ادراک ہونا چاہیے۔

انہوں نے انقلاب کی کامیابی میں مجاہد علما کے کردار کو سراہتے ہوئے شہید آیت اللہ مدنی کا خصوصی ذکر کیا اور کہا کہ ان کے اخلاص، شجاعت اور عوام دوستی انقلاب کی محرک قوت تھی۔

حجت الاسلام ملکی نے موجودہ دور میں رہبر معظم کی قیادت کو حق و صداقت کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج بھی اسلامی جمہوریہ ایران ظلم اور استکبار کے مقابل ڈٹ کر کھڑا ہے اور دانشمندانہ قیادت کے زیرِ سایہ آگے بڑھ رہا ہے۔

آخر میں انہوں نے حوزہ علمیہ میں خدمت کو ایک مقدس ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ حضرت امام زمانہؑ کی نسبت رکھتا ہے اور یہاں خدمت کرنا ایک عظیم سعادت ہے، جس کا تقاضا اخلاص، دیانت اور احساسِ ذمہ داری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha